ہم اردو افسانے ڈاٹ کام پر آپ کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں

پھول کیوں کھلے تھے؟۔۔۔۔۔۔۔پہلی قسط


یوں تو زندگی میں اس نے بہت کچھ پایا تھا۔ زندگی کی ہر سہولت اُسے میسر تھی ۔ ایک سے بڑھ کر ایک نئے نئے ماڈل کی گاڑی اُسکے زیرِ استعمال رہتی تھی۔ ایک چھوڑ کئی کئی گاڑیاں اُسکے پاس تھیں ۔ کئی شہروں میں بڑی بڑی کوٹھیاں موجود تھیں ۔پہاڑی اور صحت افزا مقامات پر اپنے گیٹ ہاوس تھے۔ ماں کی ممتا اُسے حاصل تھی ،باپ کی شفقتیں ہر دم اُس کی بلائیں لیتی تھیں۔چار شادی شدہ بہنوں کا اکلوتا بھائی ہونے کے ناطے سب بہنوں کی آنکھ کا تارہ تھا۔ سرے بھانے بھانجیوں کا پیار اُسے ملتا تھا ۔دوستوں میں امارت کا ایک رعب تھا جو ہر دم اُسے پروانوں کی طرح گھیرے رکھتے تھے ۔خوشیاں تھیں کہ کبھی ختم ہونے کا نام ہی نہ لیتی تھیں ۔ پھولوں کی سیج پہ سوتا تھا اور سونے چاندی کے برتنوں میں کھاتا تھا ۔ آج اسے یہی دولت ، پیسہ جاہ و حشمت سب فانی لگ رہے تھے وہ محسوس کر رہا تھا کہ سب آنا جانا ہے ۔یہ سب کچھ یہیں پر رہ جانا ہے ۔ اصل دولت تو انسان کا پیار ہے جو ہمیشہ ہمیشہ اُس کے ساتھ ساتھ راہنما کی طرح چلتا ہے ۔ ٹھنڈیانی کی یہ سہانی شام اُسے بہت تنگ کررہی تھی ۔ گہرے بادل چھائے تھے ۔ کسی لمحے برف باری ہو سکتی تھی اور وہ بے نیاز سڑک کے کنارے آہستہ آہستہ سر جھکائے سوچوں میں گم چلا جارہا تھا ۔ اچانک آسمان سے روئی کے نرم نرم گالے سر سر کی آواز نکالتے زمیں پر آنا شروع ہو گئے ۔اور اُس نے سر اُٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا تو اُسے یوں لگا جیسے ہزاروں لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں دھنکی ہوئی روئی کے گالے زمیں کو چھونے کی پیاس لیے جلد جلد زمین کی طرف لپک رہے ہوں ۔ پچھلے سال وہ ماہ نور سے یہیں ملا تھا اسی موڑ پر ۔اچانک ہی ان کا آمنا سامنا ہوا تھا اور وہ اُس معمولی سی لڑکی کو بس دیکھتا ہی رہ گیا تھا ۔نہ جانے اُس میں کیا بات تھی جس نے اس کو بے چین کردیا تھا اور وہ بس ایک ٹک اُسے ہی دیکھتا رہا ۔یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گئی ۔مگر اُسکے دل میں نہ جانے کیا دیپ جلا گئی تھی ۔ اُسے خود بھی سمجھ میں نہ آرہا تھا کہ کیا بات ہے اُس لڑکی میں کہ وہ اُسے اس قدر کیوں اپنی اپنی سی لگی تھی ۔ وہ اسے ہر روز دیکھا کرتا جب وہ اپنی سہیلیوں سکھیوں کے ساتھ کبھی ٹریکنگ کرتی ملتی اور کبھی چپلی کباب کھاتی نظر آتی تھی ۔ایک دن دونوں اکیلے ہی ایک دوسرے سے بھڑ گئے ۔ وہ تھوڑا سا گھبرا گئی مگر اس نے مسکراتے ہوئے جھٹ پٹ اپنا تعارف کروا دیا۔ مجھے جمشید مسعود کہتے ہیں ۔ ابھی بزنس میں ماسٹرز کر رہا ہوں ۔اکثر سردیوں میں برف باری دیکھنے یہاں آ جاتا ہوں ۔ اور آپ ؟ اُس نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا ۔ جی مجھے ماہ رُخ کہتے ہیں اور میں ابھی بی ۔ایس ۔سی کی سٹوڈنٹ ہوں ۔ اوہ اچھا اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔میں ملتان سے آئی ہوں مجھے برف باری دیکھنے کا بہت شوق تھا پہلی دفعہ آئی ہوں۔ اسی طرح باتیں کرتے کرتے وہ دونوں دور تک نکل گئے میرا خیال ہے اب چلنا چاہیے ماہ رخ بولی ۔ جی بالکل چلیں ۔ جمشید نے آتے آتے راہ میں اُس سے ڈھیروں باتیں کر لیں اور اُسے یہ بھی بتا دیا کہ مجھے آپ کو دیکھ کر بہت اپنائیت سی لگی ۔ پانچ دن وہ ایک دوسرے سے روزانہ ملتے ر ہے ماہ رخ بھی اُسے دیکھ کر بہت خوش ہوتی تھی ۔پانچویں دن وہ اپنا سامان باندھے اُسے بس اسٹاپ پہ کھڑی ملی تھی ۔اسے دیکھ کر وہ بہت بے چین سا ہو گیا ۔اب نہ جانے اس لڑکی سے پھر کبھی ملاقات ہو سکے گی یا نہیں ۔ماہ رُخ اسے دیکھ کر مسکرائی تو اچانک ہی اسے سمجھ میں آگیا کہ یہ لڑکی اُسے کیوں اتنا زیادہ اچھا لگنے لگ گئی تھی ۔ وہ اُس کی مسکراہٹ تھی جس نے اُس کے من میں اس لڑکی کی عام شکل و صورت ہونے کے باوجود خوشیوں اور امنگوں کے پھول کھلا دیئے تھے ۔ اُسے لگا کہ اُس کی مسکراہٹ میں پھولوں کی تازگی ہو ۔ جیسے یہ مسکراہٹ ایک نئی زندگی ایک جنت کا احساس دلا رہی ہو ۔گال پر پڑنے والا ڈمپل اپنی ذات میں فیض و فراز کا دیوان لگ رہا تھا ۔ آپ کبھی آئیے نا ہمارے ملتان میں اچانک ماہ رخ کہ آواز نے اُسے سوچ کی وادیوں سے نکال کر واپس اسی دُنیا میں پہنچا دیا ۔جی ضرور آئیں گے مگر کوئی اتا پتا بھی تو ہو ! جی یہ لیں میرے والد صاحب کا نام محمد طفیل ہے اور وہ اسکول میں ہیڈ ماسٹر ہیں ۔ ماہ رخ نے جلدی جلدی کاغذ پر اپنا پتہ لکھا اور اُسے دے دیا ۔گاڑی جانے کے لیے تیار تھی اس لیے وہ جلدی جلدی گاڑی میں سوار ہو گئی اور گاڑی اُس کے دل میں اک انجانا سا احساس چھوڑ کر موڑ کاٹ کر آہستہ آہستہ پہاڑوں سے نیچے اترنے لگی ۔ اُسے نہ جانے کیوں بہت برا لگ رہا تھا جیسے کوئی اسکی زندگی کو ساتھ لیے جارہا ہو ۔ جیسے دل سینہ پھاڑ کر اُس بس کے پیچھے بھاگ جانا چاہتا ہو ۔اُسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے ۔ نہ جانے کیوں یہ دل پھوٹ پھوٹ کر رونا چاہ رہا ہے ۔ کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی وہ کیوں اتنا اداس ہے ۔انہی سوچوں میں گم وہ گیسٹ ہاؤس واپس آگیا ۔ بب جی ! بب جی ! وہ اپنے پیارے بب جی کو آوازیں دینے لگا ۔ کیا بات ہے گُل جان بچے ۔بب جی اُن کا خاندانی نوکر جو نوکر کم گھر کا فرد زیادہ تھا سارے گھر والے بڑے سے لیکر چھوٹے تک اُس کی عزت کرتے تھے ۔جمشید کی بہنیں اپنے باپ کی طرح اُسے عزت دیتی تھی ۔ گل فراز صاحب جمشید کے پپا بھی اُسے بھائیوں کی طرح پیار کرتے تھے ۔ سارے اُسے بب جی کہتے تھے مگر نام اُسکا دلنواز تھا ۔ گزشتہ چالیس سال سے وہ اس گھر میں ملازم تھا ۔ بیس برس کی عمر میں وہ گل فراز صاحب کے ہاں ملازم ہوا تھا جب گل فراز صاحب کی ابھی شادی بھی نہ ہوئی تھی ۔ ہر گرم سرد حالات میں اُس نے ان کا ساتھ نہ چھوڑا تھا ۔یہی وجہ تھی کہ سب اُسکی بڑی عزت کرتے تھے ۔جمشید چھوٹا ہونے کی وجہ سے دلنواز بب جی کا بہت ہی لاڈلا اور پیارا تھا ۔ اسی لیے وہ جہاں بھی جاتا بب جی ساتھ ساتھ ہوتے ۔ جمشید کی آواز سن کر بب جی دوڑے دوڑے آئے اور ہانپتے کانپتے لہجے میں بولے کیا بات ہے گل جان بچے ؟ وہ دوڑ کر بب جان کے گلے لگ گیا اور ہچکیوں کے ساتھ رونے لگ گیا ۔اب تو بب جی کے بھی ہاتھ پاوں پھول گئے ۔او میرا پُتر کیا بات ہے ۔او میرا شہزادہ کیوں روتا ہے ۔مگر وہ کچھ نہ بولا ہاں مگر اُس کے رونے میں ایک ٹھہراو آگیا ۔بب جی اس کی کمر سہلانے لگ گئے ۔کافی دیر کے بعد وہ کچھ سنبھلا اور الگ ہو کر صوفے پر بیٹھ گیا۔بب جی اُسے پانی کا گلاس پکڑاتے ہوئے گویا ہوئے ۔گُل پُتر ! اب بتا کیا بات ہے تو آج سے پہلے تو کبھی بھی ایسے نہیں رویا ۔ مجھے تو تونے پریشان ہی کردیا پُتر ۔جمشید نے پانی کے دو تین گھونٹ لئے اور رومال سے ناک صاف کرتے ہوئے بھاری سی آواز میں بولا بب جی مجھے خود نہیں پتہ میں کیوں اتنا رویا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ میرا دل کیوں اتنا اُداس ہو رہا ہے ۔پر پُتر کوئی تو بات ہو گی ۔ کسی نے تیرا دل دکھایا ہے کیا ؟ مجھے کچھ تو بتا ایسے ہی اپنے دل کے ساتھ ساتھ میرا دل بھی پریشان کررہا ہے ۔











 


صفحہ اول *///* رابطہ کریں *///* ہندکو کلب *///* شاعری سیکشن

 


پھول کیوں کھلے تھے ۔تہی داماں۔بہار بھی آئے گی۔مکافاتِ عمل۔دل ہی تو ہے۔بہاروں سے کہنا۔شامِ غم۔نفرت۔استانی جی۔درباری۔اور بہت سے افسانے جلد شامل کئے جائیں گے

 

جملہ حقوق بنام اردو افسانے ڈاٹ کام محفوظ ہیں ||اردو افسانے ڈاٹ کام

Editor: Tahir ahmad tahir Email : (PLEASE SEND YOUR AFSANEY TO ...)saaditahmad@gmail.com .All rights reserved to URDUAFSANEY.COM